ماضی میں بھرتی کیے گئے اساتذہ پڑھانے کے قابل نہیں‘

credit=bbc.com
صوبہ بلوچستان کے وزیر تعلیم عبد الرحیم زیارتوال نے سرکاری اساتذہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھرتی ہونے والے اساتذہ کی اکثریت پڑھانے کے قابل نہیں ہیں۔
منگل کو سرکاری اساتذہ کے بارے میں یہ سخت ریمارکس انھوں نے میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کی تقریبِ انعامات سے خطاب کے دوران دیے۔
وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم کی انتظامیہ روزانہ محکمے کے خلاف پروپیگنڈہ کرتی رہتی ہے لیکن تعلیم کے فروغ کے لیے کوئی کام نہیں کررہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم بچوں کو سرکاری سکولوں میں صحیح تعلیم دیں تو لوگ پرائیویٹ سکولوں میں اپنے بچوں کو نہیں بھیجیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ کیا 'اساتذہ کا کام یہ رہ گیا ہے کہ وہ تنظیم بنا کر کسی کو بلیک میل کریں۔ ایجوکیشن کا خانہ خراب کریں اور ہم ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں۔'
انھوں نے کہا کہ حکومت کی ایجوکیشن کے حوالے سے سنجیدگی کو چیلنج کیا گیا ہے جس کو ہم قبول کرتے ہیں۔ وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ ہمارے اساتذہ ہر لحاظ سے بگڑ چکے ہیں اور ماضی میں جو اساتذہ بھرتی ہوئے ہیں ان کی اکثریت پڑھانے کے قابل نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے تلخ گھونٹ پی کر اساتذہ کو میرٹ پر بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان میں سرکاری شعبے میں اساتذہ کی سب سے بڑی تنظیم گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے اساتذہ کے بارے میں صوبائی وزیر تعلیم کے ریمارکس کی مذمت کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر تعیلم نے اساتذہ کے بارے میں منفی ریمارکس دیکر ان کی بے توقیری کی ہے۔
ایسوسی ایشن کے صدر حبیب الرحمان مردانزئی نے کہا کہ بلوچستان میں جو لوگ بھی ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں وہ انھی سرکاری تعلیمی اداروں سے پڑھے ہیں۔

No comments:

Post a Comment