اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان پہلے سے زیادہ پر امن ملک ہے ،ہم ویژن 2025 کے ٹریک پر چل پڑے ہیں۔
کویت نے مملکت کیخلاف سیٹلائٹ چینل کا پروگرام ناکام بنا دیا
تفصیلات کے مطابق سی پیک کنسورشیم آف بزنس سکولز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ کا فیلگ شپ بن چکا، چین نے کبھی پاکستان کو مایوس نہیں کیا اور نہ ہی پاکستان نے کبھی چین کو مایوس کیا، 2013 میں جب ہم نے یہ منصوبہ شروع کیا تو ہماری معیشت خراب تھی، سکورٹی صورتحال بری تھی، ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ پاکستان اکانومی کی ناکامی کیطرف بڑھ رہا ہے اور کمپنیاں یہاں سے جا رہی تھیں، اس وقت چین آگے بڑھا اور ہمارے ساتھ کھڑا ہوا۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ گوادر کی بندرگاہ کو بنانے کے نئے منصوبے شروع کئے گئے ہیں، 1980ءمیں پاکستان کی پر کیپیٹا انکم 300 ڈالر تھی اور چین کی 200 ڈالر تھی، آج چین ہم سے بہت آگے ہے، ہمیں چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے، اگر آپ کے پاس سیاسی استحکام اور باہمی احترام ہے تو آپ بہتر معیشت کیلئے مقناطیس ثابت ہوں گے، ہمیں چین سے سیکھنا چاہئے کہ کس طرح انہوں نے ترقی کی اور غربت سے نجات حاصل کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمارے نوجوانوں نے کام نہ کیا اور معیشت کو سنبھالا نہ دیا تو ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے، سی پیک کا مقصد صرف توانائی کے منصوبے بنانا نہیں بلکہ ایک بڑا صنعتی زون بنانا بھی ہے جو پورے ملک کو سپلائی کرے، اگر ہمیں پاکستان اور چین کے مابین بہترین تعلقات قائم کرنا ہیں تو ہمیں بزنس ٹو بزنس تعلقات قائم کرنا ہوں گے
تفصیلات کے مطابق سی پیک کنسورشیم آف بزنس سکولز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ کا فیلگ شپ بن چکا، چین نے کبھی پاکستان کو مایوس نہیں کیا اور نہ ہی پاکستان نے کبھی چین کو مایوس کیا، 2013 میں جب ہم نے یہ منصوبہ شروع کیا تو ہماری معیشت خراب تھی، سکورٹی صورتحال بری تھی، ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ پاکستان اکانومی کی ناکامی کیطرف بڑھ رہا ہے اور کمپنیاں یہاں سے جا رہی تھیں، اس وقت چین آگے بڑھا اور ہمارے ساتھ کھڑا ہوا۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ گوادر کی بندرگاہ کو بنانے کے نئے منصوبے شروع کئے گئے ہیں، 1980ءمیں پاکستان کی پر کیپیٹا انکم 300 ڈالر تھی اور چین کی 200 ڈالر تھی، آج چین ہم سے بہت آگے ہے، ہمیں چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے، اگر آپ کے پاس سیاسی استحکام اور باہمی احترام ہے تو آپ بہتر معیشت کیلئے مقناطیس ثابت ہوں گے، ہمیں چین سے سیکھنا چاہئے کہ کس طرح انہوں نے ترقی کی اور غربت سے نجات حاصل کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمارے نوجوانوں نے کام نہ کیا اور معیشت کو سنبھالا نہ دیا تو ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے، سی پیک کا مقصد صرف توانائی کے منصوبے بنانا نہیں بلکہ ایک بڑا صنعتی زون بنانا بھی ہے جو پورے ملک کو سپلائی کرے، اگر ہمیں پاکستان اور چین کے مابین بہترین تعلقات قائم کرنا ہیں تو ہمیں بزنس ٹو بزنس تعلقات قائم کرنا ہوں گے

No comments:
Post a Comment