بیت لحم، بد بخت بیٹوں نے باپ کو قتل کرکے لاش گاڑی سمیت جلا دی

credit=dailypakistan.com.pk
بیت لحم (یوا ین پی)فلسطین کے علاقے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم میں3بد بخت سگے بھائیوں نے اپنے باپ کو قتل کرنے کے بعد اس کی نعش کو گاڑی سمیت آگ لگا دی۔

بھارتی سیکیورٹی اداروں کی ’’سچا سودا ‘‘ میں بڑی کارروائی ،رام رحیم سنگھ کی قید سے 18سال سے کم عمر اٹھارہ لڑکیاں بازیاب،مکمل جسمانی معائنہ کرانے کا حکم
میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے کہا ہے کہ ہمیں اطلاع ملی کی بیت لحم میں سڑک پرایک ٹریفک حادثے کے بعد گاڑی کو آگ لگ گئی ہے۔اطلاع ملنے پر پولیس کی ٹیمیں فوری موقع پر پہنچیں تو انہوں نے گاڑی کولگی آگ بجھانے کے بعد اس میں موجود 65سالہ یوسف ابو عمر کی نعش باہر نکالی۔ ابتدائی طور پراس واقعے کو ٹریفک حادثے کا نتیجہ قرار دیا تاہم پولیس نے مزید تحقیق کی تو وہاں پر پٹرول کے چھڑکے جانے کی نشاندہی ہوئی۔پولیس ترجمان لوئی ارزیقات نے کہا ہے کہ فوری طورپر چھاپہ مار کر ابو عمر کے3 جواں سال بیٹوں کو حراست میں لے لیا جبکہ یوسف ابو عمر کی نعش ہسپتال منتقل کرکے اس کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
پولیس کی تفتیش کے بعد تینوں بیٹوں نے اپنے والد کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش گاڑی میں جلانے کے جرم کا اعتراف کر لیا۔تاہم گرفتار ملزمان کے خلاف قوانین کے تحت عدالتی کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے اور انہیں جلد ہی عبرت ناک سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ماضی میں بھرتی کیے گئے اساتذہ پڑھانے کے قابل نہیں‘

credit=bbc.com
صوبہ بلوچستان کے وزیر تعلیم عبد الرحیم زیارتوال نے سرکاری اساتذہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھرتی ہونے والے اساتذہ کی اکثریت پڑھانے کے قابل نہیں ہیں۔
منگل کو سرکاری اساتذہ کے بارے میں یہ سخت ریمارکس انھوں نے میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کی تقریبِ انعامات سے خطاب کے دوران دیے۔
وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم کی انتظامیہ روزانہ محکمے کے خلاف پروپیگنڈہ کرتی رہتی ہے لیکن تعلیم کے فروغ کے لیے کوئی کام نہیں کررہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم بچوں کو سرکاری سکولوں میں صحیح تعلیم دیں تو لوگ پرائیویٹ سکولوں میں اپنے بچوں کو نہیں بھیجیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ کیا 'اساتذہ کا کام یہ رہ گیا ہے کہ وہ تنظیم بنا کر کسی کو بلیک میل کریں۔ ایجوکیشن کا خانہ خراب کریں اور ہم ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں۔'
انھوں نے کہا کہ حکومت کی ایجوکیشن کے حوالے سے سنجیدگی کو چیلنج کیا گیا ہے جس کو ہم قبول کرتے ہیں۔ وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ ہمارے اساتذہ ہر لحاظ سے بگڑ چکے ہیں اور ماضی میں جو اساتذہ بھرتی ہوئے ہیں ان کی اکثریت پڑھانے کے قابل نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے تلخ گھونٹ پی کر اساتذہ کو میرٹ پر بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان میں سرکاری شعبے میں اساتذہ کی سب سے بڑی تنظیم گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے اساتذہ کے بارے میں صوبائی وزیر تعلیم کے ریمارکس کی مذمت کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر تعیلم نے اساتذہ کے بارے میں منفی ریمارکس دیکر ان کی بے توقیری کی ہے۔
ایسوسی ایشن کے صدر حبیب الرحمان مردانزئی نے کہا کہ بلوچستان میں جو لوگ بھی ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں وہ انھی سرکاری تعلیمی اداروں سے پڑھے ہیں۔

پاکستان پہلے سے زیادہ پر امن،ویژن 2025کے ٹریک پر چل پڑے ہیں:احسن اقبال

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان پہلے سے زیادہ پر امن ملک ہے ،ہم ویژن 2025 کے ٹریک پر چل پڑے ہیں۔

کویت نے مملکت کیخلاف سیٹلائٹ چینل کا پروگرام ناکام بنا دیا
تفصیلات کے مطابق سی پیک کنسورشیم آف بزنس سکولز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ کا فیلگ شپ بن چکا، چین نے کبھی پاکستان کو مایوس نہیں کیا اور نہ ہی پاکستان نے کبھی چین کو مایوس کیا، 2013 میں جب ہم نے یہ منصوبہ شروع کیا تو ہماری معیشت خراب تھی، سکورٹی صورتحال بری تھی، ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ پاکستان اکانومی کی ناکامی کیطرف بڑھ رہا ہے اور کمپنیاں یہاں سے جا رہی تھیں، اس وقت چین آگے بڑھا اور ہمارے ساتھ کھڑا ہوا۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ گوادر کی بندرگاہ کو بنانے کے نئے منصوبے شروع کئے گئے ہیں، 1980ءمیں پاکستان کی پر کیپیٹا انکم 300 ڈالر تھی اور چین کی 200 ڈالر تھی، آج چین ہم سے بہت آگے ہے، ہمیں چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے، اگر آپ کے پاس سیاسی استحکام اور باہمی احترام ہے تو آپ بہتر معیشت کیلئے مقناطیس ثابت ہوں گے، ہمیں چین سے سیکھنا چاہئے کہ کس طرح انہوں نے ترقی کی اور غربت سے نجات حاصل کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمارے نوجوانوں نے کام نہ کیا اور معیشت کو سنبھالا نہ دیا تو ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے، سی پیک کا مقصد صرف توانائی کے منصوبے بنانا نہیں بلکہ ایک بڑا صنعتی زون بنانا بھی ہے جو پورے ملک کو سپلائی کرے، اگر ہمیں پاکستان اور چین کے مابین بہترین تعلقات قائم کرنا ہیں تو ہمیں بزنس ٹو بزنس تعلقات قائم کرنا ہوں گے